مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوزن ساراندون اور ہانا اینبینڈر سمیت مظاہرین نے ’’آزاد فلسطین‘‘ اور ’’نسل کشی بند کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔ سنتھیا نکسن، ایلیٹ پیج، چیلسی میننگ اور دیگر معروف شخصیات بھی احتجاج میں شریک تھیں۔
اس مظاہرے کا اہتمام ’’یہودیوں کی آواز برائے امن‘‘ اور دیگر تنظیموں نے کیا تھا۔
دوسری جانب طفل کش نیتن یاہو کی اقوامِ متحدہ میں تقریر کے دوران درجنوں نمائندوں نے اجلاس ہال چھوڑ دیا۔
طفل کش نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی سے متعلق حقائق کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا اور ایران پر حملے کو اپنے ’’آسان ترین فیصلوں‘‘ میں سے ایک قرار دیا۔

ہانا اینبینڈر نے گرفتاری کے بعد امریکی حکومت سے غزہ پر اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی گرفتاری کی تصاویر غزہ اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری جنگ اور مبینہ نسل کشی کی جانب توجہ مبذول کروائیں۔
سوزن ساراندون نے بھی فلسطینیوں کی حمایت کے باعث ہالی ووڈ میں اپنے کرداروں سے محروم ہونے کی بات کی ہے۔

اینبینڈر نے رواں سال کانز فلم فیسٹیول میں بھی کہا تھا کہ غزہ کے بحران پر خاموشی اختیار کرنے کی قیمت ہالی ووڈ میں ذاتی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان سے زیادہ ہے۔
آپ کا تبصرہ